سوچا ہے کہ اب کارِ مسیحا نہ کریں گے وہ خون بھی تھوکے گا تو پرواہ نہ کریں گے

سوچا ہے کہ اب کارِ مسیحا نہ کریں گے

وہ خون بھی تھوکے گا تو پرواہ نہ کریں گے

Comments

Popular posts from this blog

غزل

احمد فراز